ایک خواب جو حقیقت بنا

رمضان کی وہ گرم دوپہر تھی، جب علی اپنے دوست حسن کے ساتھ گلی میں کرکٹ کھیل رہا تھا۔ سورج اپنے پورے جوبن پر تھا اور گرمی سے بچنے کے لیے سب لوگ چھاؤں میں تھے، لیکن علی اور حسن کے لیے گرمی کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ ان کے دماغ میں صرف ایک ہی بات تھی، اور وہ تھی "اگلا شاٹ مارنے کا موقع"۔
علی بیٹنگ کر رہا تھا اور حسن بولنگ کر رہا تھا۔ دونوں کے درمیان ہمیشہ مقابلہ رہتا تھا کہ کون بہترین کھلاڑی ہے۔ حسن نے گیند پھینکی، علی نے زور سے بیٹ گھمایا، اور گیند ہوا میں اڑتی ہوئی گلی کے کونے پر کھڑے درخت کے قریب جا گری۔
"شاٹ!" علی نے خوشی سے نعرہ لگایا۔
حسن مسکراتے ہوئے بولا، "ابھی دیکھتے ہیں، آخری اوور باقی ہے!"
اچانک، گلی کے ایک کونے سے ایک آدمی نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا اور چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ دونوں دوستوں کے قریب آیا اور کہا، "ارے لڑکو، کیا تم دونوں کو شرط لگانے کا شوق ہے؟"
علی اور حسن ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھنے لگے۔
"شرط؟ کس چیز کی شرط؟" علی نے پوچھا۔
میں تمہیں ایک موقع دیتا ہوں،" وہ آدمی بولا۔ "اگر تم دونوں ایک ایک چانس لے کر یہ بتا سکو کہ کل کے میچ میں کون جیتے گا، تو میں تمہیں بڑی انعامی رقم دوں گا
علی اور حسن دونوں جوش میں آ گئے۔ وہ دونوں کرکٹ کے دیوانے تھے اور ہر میچ کی خبر رکھتے تھے۔
"یہ تو بہت آسان ہے!" علی نے کہا۔
"تو پھر، بتاؤ، کون جیتے گا؟" آدمی نے کاغذ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
"!حسن نے جلدی سے کہا، "پاکستان! میں شرط لگاتا ہوں کہ پاکستان جیتے گا
علی نے کچھ لمحے سوچا اور پھر بولا، "میں کہتا ہوں کہ شاید بھارت جیت جائے۔"
آدمی مسکرایا اور دونوں کے جواب لکھ لیے۔ پھر بولا، "کل دیکھتے ہیں کون صحیح ہوتا ہے۔ تم میں سے جو بھی جیتے گا، وہ انعام کا حق دار ہوگا۔
اگلے دن کا میچ شروع ہوا، اور دونوں دوستوں نے دل تھام کے دیکھا۔ حسن کا دل ہر گیند پر دھڑک رہا تھا، اور علی چپ چاپ ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا۔ آخر کار میچ ختم ہوا، اور نتیجہ آ گیا—پاکستان جیت گیا
"!حسن خوشی سے اچھل پڑا، "میں جیت گیا! میں نے کہا تھا نا کہ پاکستان ہی جیتے گا
علی نے مسکراتے ہوئے حسن کو مبارکباد دی اور بولا، "چلو، تم نے صحیح پیش گوئی کی۔"
اچانک، دروازے پر دستک ہوئی۔ وہی آدمی جو کل ملا تھا، دروازے پر کھڑا تھا۔
"!مبارک ہو، حسن!" وہ بولا، "تم نے شرط جیت لی ہے"
حسن حیران ہوا اور پوچھا، "لیکن انعام؟"
آدمی نے ایک خالی لفافہ نکال کر حسن کو دیا اور ہنستے ہوئے بولا، "یہ تمہارے لیے سبق ہے، بیٹا۔ زندگی میں ہمیشہ قسمت پر بھروسہ مت کرو، محنت اور دیانت ہی اصل کامیابی کا راز ہیں
یہ سن کر حسن کی مسکراہٹ کچھ مدھم ہو گئی، لیکن پھر وہ سمجھ گیا کہ آدمی کی بات میں کیا سچائی تھی۔
"یہ بہترین شرط کا وقت تھا، لیکن اصل جیت وہی ہوتی ہے جو اپنی محنت سے حاصل کی جائے،" حسن نے سوچا۔
"!علی نے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، "اگلی بار ہم مل کر محنت کریں گے، بغیر کسی شرط کے
Comments
Post a Comment