ایک خواب جو حقیقت بنا

رات کا وقت تھا، اور آسمان پر بادلوں نے چاند کو ڈھانپ لیا تھا۔ سرد ہوا کے جھونکے درختوں کو ہلا رہے تھے، جیسے وہ کسی انجانے خوف سے لرز رہے ہوں۔ گاؤں کے کنارے پر ایک پرانی، ٹوٹی پھوٹی حویلی کھڑی تھی، جسے لوگ برسوں سے چھوڑ چکے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ اس حویلی میں کچھ ایسا ہے جسے کوئی دیکھنا نہیں چاہتا۔
Horror Story in Urdu
حسن، ایک نوجوان جسے مہم جوئی کا شوق تھا، نے گاؤں والوں کی باتوں کو محض افسانہ سمجھا اور اُس رات اُس حویلی کو دیکھنے کا ارادہ کیا۔ گاؤں والے اسے روکنے کی کوشش کرتے رہے، مگر وہ اپنی ضد پر قائم تھا۔
Horror story in urdu written
"یہ سب باتیں محض ڈرپوک لوگوں کے قصے ہیں۔ میں جا رہا ہوں، اور دیکھوں گا کہ وہاں کیا ہے!" حسن نے کہا اور مشعل جلا کر حویلی کی طرف چل پڑا۔
Horror story in urdu for kids
جب وہ حویلی کے قریب پہنچا تو ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ درختوں کی سرسراہٹ بند ہو گئی، اور ہوا کا چلنا بھی رک گیا۔ حسن نے دروازے کو دھکیلا، جو چرچراتے ہوئے کھل گیا۔ اندر اندھیرا تھا اور ہر طرف دھول کی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ دیواروں پر پرانی تصویریں لٹک رہی تھیں، جن کے چہرے دھندلے ہو چکے تھے۔
Horror story in urdu short
حسن نے قدم بڑھایا اور کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ اچانک اُسے اپنے پیچھے کسی کے چلنے کی آہٹ سنائی دی۔ وہ مُڑا، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، مگر اُس نے خود کو سنبھالا اور آگے بڑھا۔
Horror story in urdu reading
ایک کمرے کے دروازے کے پیچھے سے ہلکی سی روشنی نظر آئی۔ وہ چونکا، مگر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اُس نے دروازہ کھولا۔ اندر ایک پرانی کرسی پر کوئی بیٹھا تھا۔ حسن نے مشعل کی روشنی میں دیکھا، تو اُس کی سانسیں تھم گئیں۔ وہاں ایک بوڑھا آدمی تھا، جس کی آنکھیں خالی، سفید اور بے جان تھیں۔
Horror Story
"تم یہاں کیوں آئے ہو؟" بوڑھے نے سرد آواز میں پوچھا۔
حسن نے گھبرا کر جواب دیا، "میں... میں یہ جگہ دیکھنا چاہتا تھا۔"
بوڑھا آدمی ہنسنے لگا، لیکن اُس کی ہنسی میں کچھ غیر انسانی تھا۔ "یہاں صرف وہی آتا ہے جو کھو چکا ہو۔ تمہیں پتا ہے، یہ حویلی صرف اُن لوگوں کو دیکھتی ہے جن کی زندگی میں اندھیرا ہوتا ہے۔ اور جو یہاں آتا ہے، وہ پھر کبھی روشنی نہیں دیکھتا۔"
Urdu Stories Collection
حسن پیچھے ہٹنے لگا، مگر اُسی وقت دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ بوڑھا آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا، اور اس کا سایہ لمبا ہوتا چلا گیا۔ حسن کو لگا کہ اس کے ارد گرد کی دیواریں سمٹ رہی ہیں، اور کمرہ سکڑتا جا رہا ہے۔ اُس کی سانس تیز ہو گئی، اور وہ دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگا، مگر اُس کے ہاتھوں میں جیسے جان ہی نہ رہی۔
"اب تم بھی اندھیروں کے مسافر بن چکے ہو۔" بوڑھے کی آواز گونجی، اور کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔
Wellington's Short Story Collection
صبح جب گاؤں والے حویلی کے قریب پہنچے تو انہیں حسن کا کوئی سراغ نہ ملا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ رات اندھیروں میں کھو گیا، اور آج تک اس کا کوئی پتا نہیں چلا۔
Urdu Stories
لوگ آج بھی اُس حویلی کے قریب جانے سے ڈرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہاں جو ایک بار جاتا ہے، وہ واپس نہیں آتا۔
Comments
Post a Comment