ایک خواب جو حقیقت بنا

حضرت فاطمہ الزہراؓ، نبی اکرم حضرت محمد ﷺ اور حضرت خدیجہؓ کی بیٹی تھیں۔ ان کی زندگی اور شخصیت نہ صرف مسلمانانِ عالم کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔ حضرت فاطمہؓ کی سادگی، عاجزی، اور ان کی دینِ اسلام کے لیے خدمات نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ اس کہانی میں ہم حضرت فاطمہؓ کی سادگی، ان کی زندگی کی بعض اہم لمحات اور ان کے اخلاقی کردار کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔
حضرت فاطمہؓ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ ان کی والدہ حضرت خدیجہؓ، جو اس وقت کی ایک عظیم تجارتی خاتون تھیں، نے حضرت فاطمہؓ کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بچپن ہی سے حضرت فاطمہؓ کی شخصیت میں ایک خاص نور اور خوبصورتی تھی۔ آپؓ کے والد، نبی اکرم ﷺ، آپؓ سے بے حد محبت کرتے تھے اور آپؓ کو "ابا" کہہ کر پکارتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ کی بچپن کی زندگی ان کے والد کے پیغام کو سمجھنے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے میں گزری۔
حضرت فاطمہؓ کی شادی حضرت علیؓ سے ہوئی، جو نبی ﷺ کے انتہائی قریبی ساتھی اور رشتے دار تھے۔ یہ شادی نہایت سادہ طریقے سے ہوئی، کیونکہ دونوں خاندانوں کی طرف سے سادگی کو ترجیح دی گئی۔ حضرت علیؓ نے اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، اور حضرت فاطمہؓ نے اپنے شوہر کے ساتھ محبت اور احترام کے ساتھ زندگی بسر کی۔
حضرت فاطمہؓ نے اپنے شوہر کی ہر ضرورت کا خیال رکھا اور ان کے ساتھ مل کر دین کی خدمت کی۔ ان کی زندگی میں بہت سی مشکلات آئیں، مگر وہ ہمیشہ صبر اور استقامت کے ساتھ ان کا سامنا کرتی رہیں۔ ایک بار حضرت علیؓ نے فرمایا: "فاطمہ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لیکن آپ کی محبت اور تعاون نے مجھے طاقت دی ہے۔"
حضرت فاطمہؓ کی سادگی کی ایک مثال یہ ہے کہ آپؓ نے کبھی بھی دنیاوی چیزوں کی طلب نہیں کی۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے گزرا۔ آپؓ نے اپنے گھر میں کبھی بھی زیادہ زرق و برق کی چیزیں نہیں رکھیں۔ ان کا گھر سادگی کا ایک نمونہ تھا۔
حضرت فاطمہؓ نے اپنے بچوں کی تربیت میں بھی سادگی اور قناعت کا سبق دیا۔ آپؓ کے بچوں نے ہمیشہ اس بات کو سمجھا کہ حقیقی خوشی دنیاوی چیزوں میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور دین کی خدمت میں ہے۔
حضرت فاطمہؓ کی شخصیت میں محبت اور ایثار کا جذبہ بھی نمایاں تھا۔ آپؓ ہمیشہ اپنے والد، شوہر، اور بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتی تھیں۔ آپؓ نے کبھی بھی اپنی ضرورت کو مقدم نہیں رکھا، بلکہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کی۔
ایک واقعہ میں، حضرت فاطمہؓ نے اپنی ایک دن کی خوراک ایک ضرورت مند کو دے دی، حالانکہ وہ خود بھوکی تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر اور بچوں کو یہ سمجھایا کہ جب ہم اللہ کی راہ میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں، تو اللہ ہمیں اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔
حضرت فاطمہؓ نہ صرف ایک بہترین بیٹی اور بیوی تھیں بلکہ ایک علم و ادب کی حامل شخصیت بھی تھیں۔ آپؓ نے اپنے والد سے علم حاصل کیا اور دین کی بنیادیات کو سمجھا۔ آپؓ کی گہرائی اور بصیرت نے آپ کو ایک بے نظیر عالمہ بنا دیا۔
آپؓ کی تقاریر میں حکمت اور علم کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ آپؓ نے اپنے والد کے پیغام کو عام کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا، آپؓ فوراً اپنے والد سے رہنمائی حاصل کرتیں۔
حضرت فاطمہؓ نے دین کی خدمت میں ہمیشہ آگے بڑھ کر حصہ لیا۔ آپؓ کی زندگی کا مقصد دین کی اشاعت اور اللہ کی رضا حاصل کرنا تھا۔ آپؓ نے اپنے والد کے ساتھ مل کر اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور لوگوں میں دین کی محبت پیدا کی۔
ایک واقعہ یہ ہے کہ جب مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں مشکلات کا سامنا تھا، حضرت فاطمہؓ نے اپنے والد کے ساتھ مل کر ان کی مدد کی۔ آپؓ نے لوگوں کو صبر کی تلقین کی اور انہیں اللہ کی رحمت کی امید دلائی۔
حضرت فاطمہؓ کی زندگی کا آخری دور انتہائی دردناک تھا۔ آپؓ کے والد کی وفات کے بعد آپؓ بہت زیادہ مایوس ہو گئیں۔ آپؓ کا دل ہمیشہ اپنے والد کی یاد میں غمزدہ رہتا تھا۔ اس دوران آپؓ کی صحت بھی متاثر ہوئی اور آپؓ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں زیادہ تر وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزارا۔
آپؓ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے شوہر اور بچوں کو نصیحت کی اور انہیں اللہ کی راہ پر چلنے کی تلقین کی۔ آپؓ نے فرمایا: "میرے بچے! اللہ کے ساتھ کبھی بھی غفلت نہ برتو۔"
حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد، آپؓ کی یادیں اور آپؓ کی تعلیمات آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ آپؓ کی سادگی، محبت، اور دین کی خدمت کا جذبہ ہمیشہ لوگوں کے لیے ایک مثالی نمونہ رہے گا۔ آپؓ کی قبر مبارک جنت البقیع میں ہے، جہاں آپؓ کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت فاطمہؓ کی زندگی نے ہمیں سادگی، قربانی، علم، اور محبت کا درس دیا۔ آپؓ کی مثال آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی کامیابی اور خوشی اللہ کی رضا میں ہے۔
حضرت فاطمہؓ کی سادگی اور عاجزی نے آپؓ کو ایک منفرد مقام عطا کیا۔ آپؓ کی زندگی کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے، ہمیں اپنے اخلاقی اقدار اور دین کی خدمت پر توجہ دینی چاہیے۔ آپؓ کا صبر، ایثار، اور دین کی محبت آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے اور ہمیں رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ کیسے ایک مؤمن کو اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔
Comments
Post a Comment