ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک پرانا قلعہ تھا، جسے "خونی قلعہ" کہا جاتا تھا۔ قلعے کے بارے میں گاؤں کے بزرگوں کا کہنا تھا کہ اس میں کچھ ایسا چھپا ہوا ہے جو صدیوں سے کسی نے نہیں دیکھا۔ رات کے وقت قلعے سے عجیب و غریب آوازیں آتی تھیں، اور لوگ وہاں جانے سے کتراتے تھے۔
Horror Story
رافع، ایک نوجوان جو ہمیشہ مہم جوئی کا شوقین تھا، ان باتوں کو خرافات سمجھتا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود قلعے کا راز معلوم کرے گا۔ ایک شام، جب سورج ڈوب چکا تھا اور گاؤں کی گلیاں سنسان ہو چکی تھیں، رافع نے اپنے دوستوں کو قائل کیا کہ وہ اس کے ساتھ جائیں۔
The Secret of the Old Fort Story
اگر تم لوگ ڈرتے ہو تو میں اکیلا جا سکتا ہوں، رافع نے دوستانہ انداز میں چیلنج کیا۔
بالآخر، اس کے تین دوست—آصف، سارہ، اور کاشف—اس کے ساتھ جانے پر راضی ہو گئے۔ انہوں نے ٹارچیں لی اور رات کے وقت قلعے کی طرف روانہ ہو گئے۔ قلعہ ایک پہاڑی پر تھا، جس تک پہنچنے کے لیے ایک لمبا اور پتھریلا راستہ تھا۔
Urdu Stories
جب وہ قلعے کے دروازے تک پہنچے تو ہوا کی ایک سرد لہر نے انہیں لرزا دیا۔ دروازہ خود بخود چرچراتے ہوئے کھل گیا، جیسے کسی غیبی قوت نے اسے دھکیلا ہو۔ اندر داخل ہوتے ہی قلعے کی دیواریں جیسے سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ دیواروں پر پرانی تصویریں تھیں، جن پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی، اور فرش پر دھول کی موٹی تہیں تھیں۔
آصف نے کہا، مجھے تو یہاں کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔ شاید ہمیں واپس چلے جانا چاہیے۔
رافع نے جواب دیا، "اب یہاں تک آ گئے ہیں، تو آگے بھی چلتے ہیں۔"
وہ قلعے کے اندرونی حصے کی طرف بڑھتے گئے، جہاں ایک پرانا اور بھاری پتھروں سے بنا ہوا کمرہ تھا۔ اچانک، قلعے کی دیواروں سے ایک دھیمی سی آواز سنائی دی، جیسے کوئی ان کے آنے کا انتظار کر رہا ہو۔
Urdu Story
"یہ آواز کیسی ہے؟" سارہ نے گھبرا کر پوچھا۔
رافع نے دیواروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، یہیں کہیں کوئی خفیہ دروازہ ہونا چاہیے۔
کاشف نے ایک جگہ دباؤ ڈالا، تو دیوار خود بخود پیچھے کی طرف کھسک گئی، اور ان کے سامنے ایک خفیہ راستہ نمودار ہوا۔ راستہ تنگ اور تاریک تھا، لیکن ان کا تجسس ان کے خوف پر غالب آ رہا تھا۔
وہ راستے میں آگے بڑھتے گئے، اور ایک بڑے کمرے میں پہنچے، جہاں ایک قدیم صندوق رکھا ہوا تھا۔ صندوق کے اوپر عجیب و غریب نقوش بنے ہوئے تھے، جنہیں کوئی پڑھ نہیں سکتا تھا۔ رافع نے صندوق کو کھولنے کی کوشش کی، لیکن جیسے ہی اس نے ہاتھ لگایا، قلعے کی پوری عمارت لرزنے لگی۔
اچانک، صندوق سے دھواں نکلنے لگا اور ایک سایہ نما مخلوق ان کے سامنے نمودار ہوئی۔ اس مخلوق کی آنکھیں سرخ اور چمکتی ہوئی تھیں، اور اس کے جسم سے سرد ہوائیں نکل رہی تھیں۔
UrduStories.fun
"تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟" مخلوق نے ایک گہری اور خوفناک آواز میں پوچھا۔
سارہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولی، "ہمیں معاف کر دو! ہم صرف یہاں کا راز جاننا چاہتے تھے۔"
مخلوق نے قہقہہ لگایا، "صدیوں سے کوئی اس قلعے میں داخل نہیں ہوا، اور تم نے میری نیند کو توڑا ہے۔ اب تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔"
Short Story Collection
رافع نے ہمت جمع کرتے ہوئے کہا، "ہمیں چھوڑ دو! ہم یہاں کوئی نقصان کرنے نہیں آئے۔"
مخلوق نے ان کی طرف اشارہ کیا، اور فوراً قلعے کے دروازے بند ہو گئے۔ کمرہ ان کے گرد گھومنے لگا، اور وقت جیسے تھم گیا ہو۔ قلعے کی فضا میں ایک عجیب سی آواز گونج رہی تھی، اور ان چاروں کو لگا کہ ان کی جانیں خطرے میں ہیں۔
UrduShorts Stories
اچانک، کاشف نے اپنی جیب سے ایک پرانی چابی نکالی جو اسے قلعے کے قریب سے ملی تھی۔ اس نے وہ چابی صندوق کے ایک خفیہ تالے میں ڈال دی، اور فوراً مخلوق غائب ہو گئی۔ صندوق سے روشنی پھوٹنے لگی اور دروازے خود بخود کھل گئے۔
وہ چاروں تیزی سے قلعے سے باہر بھاگے اور نیچے گاؤں کی طرف دوڑ لگائی۔ جیسے ہی وہ قلعے سے باہر نکلے، قلعہ پیچھے دھند میں غائب ہو گیا، جیسے کبھی وہاں تھا ہی نہیں۔
گاؤں پہنچنے کے بعد، وہ سب خاموش تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ قلعہ کیا تھا، اور اس کا راز ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں میں دفن ہو گیا۔ لیکن ایک بات طے تھی: وہ کبھی اس جنگلی پہاڑی کی طرف دوبارہ قدم نہیں رکھیں گے۔
Comments
Post a Comment