ایک خواب جو حقیقت بنا

حضرت موسیٰؑ کا مقام اسلامی تاریخ میں انتہائی بلند ہے۔ وہ اللہ کے منتخب پیغمبروں میں سے تھے اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کی زندگی میں کئی واقعات ایسے پیش آئے جنہوں نے لوگوں کو سبق سکھایا۔ ان میں سے ایک واقعہ ایک بوڑھی عورت کے ساتھ پیش آیا جو اپنی دعا کے ذریعے حضرت موسیٰؑ کی زندگی میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
جب حضرت موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے آزاد کرانے کی کوششیں شروع کیں، تو انہیں مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فرعون کی طاقت اور ظلم کی وجہ سے بنی اسرائیل کی حالت بہت خراب تھی۔ لوگ بے بس، مایوس اور خوف زدہ تھے۔ حضرت موسیٰؑ اپنے لوگوں کی مدد کے لیے مسلسل کوشش کر رہے تھے، لیکن انہیں بھی احساس ہوتا تھا کہ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے اللہ کی مدد کی ضرورت ہے۔
ایک دن حضرت موسیٰؑ اپنے سفر کے دوران ایک گاؤں میں پہنچے۔ وہاں ایک بوڑھی عورت بیٹھی ہوئی دعا کر رہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر حضرت موسیٰؑ کو اس پر رحم آیا اور انہوں نے اس سے پوچھا:
"اماں، تم کس کی دعا کر رہی ہو؟"
:بوڑھی عورت نے جواب دیا
بیٹا، "میں اللہ سے دعا مانگ رہی ہوں کہ میرے بیٹے کو صحت عطا فرمائے۔ وہ بہت بیمار ہے اور میری عمر بھی بہت ہوگئی ہے۔" مجھے اس کی خدمت کرنے کا شوق ہے، لیکن میں اس کی بیماری کی وجہ سے بے بس ہوں۔
حضرت موسیٰؑ نے بوڑھی عورت کی آنکھوں میں آنسو دیکھے اور ان کی دل کی گہرائیوں میں اس کے درد کو محسوس کیا۔ انہوں نے اس عورت سے کہا
"اللہ تعالیٰ سننے والا ہے، تم اپنی دعا جاری رکھو۔ میں تمہارے بیٹے کی صحت کے لیے دعا کروں گا۔"
:بوڑھی عورت نے مسکراتے ہوئے کہا
"بیٹا، میں نے بہت دعائیں مانگی ہیں، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی۔"
حضرت موسیٰؑ نے اس بوڑھی عورت کی باتوں کو سن کر دل میں عزم کیا کہ وہ اس کے بیٹے کی صحت کے لیے اللہ سے دعا کریں گے۔ انہوں نے اس بوڑھی عورت سے کہا
"اللہ کبھی بھی اپنے بندوں کی دعا کو ضائع نہیں کرتا۔ تمہارا صبر اور ایمان اللہ کو پسند ہے۔ تم دعا جاری رکھو، ان شاء اللہ تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی۔"
بوڑھی عورت نے پھر اپنی دعا میں شدت پیدا کر دی اور اللہ سے اپنے بیٹے کی صحت کی طلب کرنے لگی۔
حضرت موسیٰؑ نے اپنی دعا کے لیے اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے اور اللہ سے درخواست کی کہ اس بوڑھی عورت کے بیٹے کو صحت عطا فرمائے۔ انہوں نے دل سے دعا مانگی
"یا اللہ، آپ نے اس بوڑھی عورت کی خدمت کی قدر کی ہے۔ اس کے دل کی دعا کو سنو اور اس کے بیٹے کو صحت عطا کرو۔"
ان کی دعا کے بعد، اللہ نے انہیں وحی کی کہ اس بوڑھی عورت کے بیٹے کی صحت جلدی ہو جائے گی، اور ان کی دعا قبول ہو گئی۔
جب حضرت موسیٰؑ نے بوڑھی عورت سے کہا کہ اللہ نے اس کی دعا قبول کر لی ہے، تو اس کے چہرے پر خوشی کی ایک نئی روشنی آ گئی۔ وہ خوش ہو کر بولی
"بیٹا، کیا واقعی میرے بیٹے کی صحت ہو جائے گی؟"
حضرت موسیٰؑ نے جواب دیا
"جی ہاں، اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ تمہارا بیٹا جلد صحت یاب ہو جائے گا۔"
بوڑھی عورت نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے بیٹے کے لیے مزید دعا کرنے لگی۔
کچھ دن بعد، جب حضرت موسیٰؑ وہاں دوبارہ آئے تو بوڑھی عورت نے خوشی خوشی ان کا استقبال کیا۔ اس کے بیٹے کی صحت بہتر ہو گئی تھی اور وہ صحت مند ہو کر اپنے کاموں میں مشغول تھا۔
بوڑھی عورت نے حضرت موسیٰؑ سے کہا
"بیٹا، تمہاری دعا کی برکت سے میرے بیٹے کی صحت لوٹ آئی ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے میری دعا کو قبول کیا۔"
حضرت موسیٰؑ نے جواب دیا
"یہ اللہ کی رحمت ہے، جو اپنے بندوں کی دعاوں کا جواب دیتا ہے۔ تمہارا ایمان اور صبر اس دعا کی قبولیت کا سبب بنا۔"
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رحمت ہر جگہ ہے اور وہ اپنے بندوں کی دعا کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ کبھی کبھار مشکلات اور آزمائشیں آتی ہیں، لیکن صبر اور دعا کا راستہ ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
بوڑھی عورت کی دعا اور حضرت موسیٰؑ کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ دعا کی طاقت بے حد ہے، اور اللہ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور مشکلات میں صبر سے کام لینا چاہیے۔
Comments
Post a Comment